انسانی دودھ کی خرید وفروخت اور رضاعت کے مسائل


Authors: خیر محمد آصف میمن

تعارف:

سائنس کی ترقی نے ایک طرف انسان کو بیش بہا سہولیات دی ہیں مگر دوسری طرف ان سہولیات کے ساتھ نئے نئے مسائل اور پیچیدگیاں بھی پیدا ہورہی ہیں،دور حاضر کے ان بیشمار مسائل میں سے ایک "ملک بینکس" (Milk banks) کا قیام ہے۔ موجودہ زمانے میں بلڈ بینکس(Blood banks) کی طرح عورتوں کے دودھ کے (Milk bank) قائم ہونا شروع ہوگئے ہیں، یہ بینک عورتوں سے دودھ خرید کر اس کو جمع کرتی ہیں پھر  قیمتایہ دودھ بیچتی  ہیں تاکہ ماں یا مرضعہ (Foster Mother)کے دودھ کے بدلے بچےا س سے غذا حاصل کریں۔

………………………………

 

پیش آمدہ مسائل:

عورت کے دودھ کی خرید و فروخت سے بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں مثلا:بچےکا ایسا دودھ پینے کا کیا حکم ہے؟ کیا بچے اور جس عورت کا دودھ ہے اس میں حرمت پیدا ہوگی؟کیا یہ عورت اس بچہ کی رضاعی ماں بن جائے  گی اوریہ بچہ اس عورت کی دوسری اولاد سے نکاح نہ کر سکے گا؟ کیا عورتوں کے دودھ کی خرید و فروخت جائز ہے؟ اور اس مخلوط دودھ (یہ دودھ بسااوقات کئی عورتوں کا مخلوط دودھ ہوتا ہے)پینے سے کیا اثرات مرتب ہونگے؟درج ذیل میں ہم مذکورہ سوالات  کا جائزہ لیں گے۔

اللہ تبارک و تعالی کی ذات با حکمت ہے اور فعلِ حکیم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ جوانسان بھی اللہ تعالیٰ کے اوامر(Orders (اورنواہی Prohibits)) میں غورکرےگاتو اس میں ضرورکوئی حکمت پائے گا۔ اللہ تعالی نےمخلوق کی تخلیق فرمائی اورعلمائے کرام نے  تخلیقِ  خلق کے پانچ مقاصد فرمائے ہیں،چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ "المستصفی " میں  فرماتے ہیں:

"مقصود الشرع من الخلق خمسة وهو أن يحفظ عليهم دينهم و نفسهم وعقلهم ونسلهم ومالهم ، فکل مايتضمن  حفظ هذه الأصول الخمسة فهو مصلحة ،وکل مايفوت  الأصول فهو مفسدۃ ودفعها مصلحة"(1)

ترجمہ :مخلوق کی خلقت سے شرع کا مقصد پانچ باتیں ہیں، وہ یہ کہ ان کے دین،نفس،عقل،نسل اور مال کی حفاظت کرے،ہر وہ چیز جو ان پانچ باتوں کی حفاظت کی مضمون ہو وہ مصلحت ہےاور ہر وہ چیز جو ان اصول کو فوت کرے وہ مفسدہ ہے،اور اس کو دور کرنا مصلحت ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے نسل کی حفاظت کو دین اور نفس کی حفاظت کے لیےمکمل قرار دیا ہے اور اس کی اىک لطىف توجىہ بىان کرتے ہوئے فرماتے ہىں کہ کبیرہ گناہوں میں سے تین اکبر الکبائر شرک، ناحق قتل اور زنا ہیں جن کو اللہ تبارک وتعالی نے بالترتیب درج ذیل آیت میں بیان فرمایا ہے:

"وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آَخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا" (2)

ترجمہ: "اور وہ لوگ نہیں پکارتے اللہ کے سوا دوسرے حاکم کو اور نہیں کرتے خون جان کا جو منع کردی اللہ نے مگر جہاں چاہئے اور بدکاری نہیں کرتے"(3)

یہ ترتیب معقولی بھی  ہےوہ اس طرح کہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے  اور انسان کی بقا جسم کے ساتھ ہے اور انسانیت کی بقا نکاح اور نسل کے ساتھ ہے۔کفر مقصدِ زندگی یعنی اللہ تعالی کی عبادت کے منافی ہے،قتل انسانوں کے لیےباعثِ فساد ہے اور زنا مستقبل کی انسانیت کے لیے فساد کا باعث ہے۔فسادِ حالی فساد ِمستقبل سے شدید ہونے کی وجہ سے قتل کو مقدم ذکر کیا گیا ہے۔(4)

اگر نسلِ انسانی کی حفاظت نہ ہو تو نوع ِانسانی کے ساتھ ساتھ مقصدِ تخلیق انسانی یعنی عبادت بھی محفوظ نہ ہوگی۔اللہ تعالی نے نسل انسانی کی حفاظت فرمائی اور اس کے لئے بہت ساری ہدایات اور احکامات عطا فرمائے جن میں نکاح کرنے کی ترغیب و فضیلت ،گواہوں کا تقرر، طرفین کے حقوق کی رعایت کے ساتھ ساتھ بدنظری،مردوں اور عورتوں کے باہمی اختلاط اور کشفِ عورت کی حرمت کے  ساتھ رضاعت کے احکام شامل ہیں۔

رضاعت دودھ کے واسطے سے ثابت ہوتی ہے۔دودھ کو لبن کہا جاتا ہے،یہ اسم جنس ہے، اس کی جمع البان آتی ہے،اس کی مفرد لبنۃ ہے،اس کا باب ضرب اور نصر ہے۔(5)  دودھ اللہ تعالی کی ایک بیش بہا دولت ہے،اللہ تعالی نے دودھ کی نعمت کو قرآن مجید میں ایک احسان کے طور پر ذکر کیا ہے،اللہ تعالی کا ارشا دہے:

"وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ" (6)

ترجمہ: اور تمہارے واسطے چوپایوں میں سوچنے کی جگہ ہے، پلاتے ہیں تم کو اس کے پیٹ کی چیزوں میں سے گوبر اور لہو کے بیچ میں سے(درمیان سے) دودھ ستھرا، خوشگوار پینے والوں کے لیے۔(7)

چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں " جو بھی اللہ تعالی کی صنعت ِعجیبہ دودھ کے مختلف چیزوں میں مختلط ہونے اور دودھ کے تیارہونے اور اس کے جاری ہونے کی جگہ اور اس کے بننے کے اسباب اور جانورں کی تسخیر میں غور و فکر کرے گا تو انسان اللہ تعالی کے علم،قدرت،حکمت اور رحمت کا اقرار کئے بغیر رہ نہیں سکے گا۔(8)

ماں کے دودھ کی اہمیت:

بچہ جیسے ہی پیدا ہوتا ہے تو اسے ماں کے دودھ کی شکل میں اس بھرپور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے جس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کاریہ پہلے سے سیکھ کر آیا ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ بچے کیلئے ایک مکمل غذا ہے۔ بچے کو اس دودھ میں وہ تمام اجزا مل جاتے ہیں جو اس کی ساخت اور نشوونما کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ "عالمی ادرہ صحت" کے مطابق تقریبا تمام مائیں اپنے بچوں کو کامیابی سے دودھ پلا سکتی ہیں، یہ ٹائم بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر سے شروع ہو کر چھ ماہ تک جاری رہتا ہے، اس کو دوسری غذاوں کے ساتھ دو سال تک جاری رکھا جا سکتا ہے ۔اس عمل کے مثبت اثرات بچے اور ماں کی صحت پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔(9)

یہ دودھ بچے کو (Chronic diseases) یعنی مستقبل کی بیماریوں جیسے ڈائبٹک ٹائپ ون ، ٹائپ ٹو (Diabetes I-II)،  بلڈ پریشر،کولسٹرول، چمڑی ، دمہ اور موٹاپے وغیرہ جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔(10)نیز یہ دودھ بچے کو ڈائریا،نمونیا، کان اور پیشاب کےامراض سے بھی محفوظ رکھتا ہےاور ماں کوچھاتی اور رحم کے کینسر ( Breast cancer and ovarian cancer) سے بھی بچاتا ہے۔(11) کچھ ایسی بیماریوں کے کیس بھی رپورٹ ہوئے ہیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ اس بیماری کی وجہ ماں کا عارضی طور پر یا مستقل طور پر بچے کو دودھ نہ پلانا ہے۔(12)

بچے کو ایک دن میں کتنا دودھ کافی ہوتا ہے ؟

یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کیونکہ یہ ہر بچے کی صحت، عادت اور عمر پر منحصر ہے مگر اس کا جواب دینے کے لیے نیچے دیا گیا فارمولا مددگار ہوگا۔ایک بچہ 24 گھنٹوں میں 2.5 اونس  دودھ پر پاونڈ(ایک اونس تقریبا  34.28  گرام اور ایک پاونڈ تقریبا 0.45 کلو گرام کا ہوتا ہے)  اپنے وزن کے اعتبار سے استعمال کرتا ہے ، مثلا 8  پاونڈ کے بچے کو 24 گھنٹے میں 20 اونس دودھ کی ضرورت ہوگی اور وہ 8 سے 10مرتبہ  ایک دن میں 2سے 2.5   اونس دودھ ایک وقت استعمال کرے گا۔(13 (

حقیقی ماں کادودھ  نہ پلانا:

بچے کے لئے ماں کا دودھ وہ انمول غذا ہوتی ہے جو ابتدئی ایام کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں بچے کو دو سال تک دودھ پلانے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد ہے:

" وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ"(14)

"اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دوسال تک دودھ پلائیں یہ مدت ان کے لیے ہے جو رضاعت کی مدت پوری کرنا چاہیں"

اگربچہ اس عمر کے دوران دودھ سے مستغنی ہوگیا اور والدین باہم رضامندی سےدو سال سے پہلے دودھ چھڑانا چاہیں تو اس کی بھی اجازت دی گئے ہے۔مفتٰی بہ قول کے مطابق عمومی حالات میں دو سال کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں۔ اگر بچہ انتہائی  ہی کمزور ہو  اس کے گذارہ دودھ کے علاوہ اور کسی چیز پر نہ ہوتا ہو تو اس کو ڈھائی سال تک دودھ پلانے کی گنجائش ہے۔(15)لیکن حرمت نکاح کے لیے ڈھائی سال کی مدت ہے یعنی اگر ڈھائی سال کے اندر بچہ کسی عورت کا دودھ پیئے گا تو وہ عورت اس کی ماں اور اس کی اولاد اس بچہ کے بہن ،بھائی بن جائیں گے۔ (16)

 ماں کا بچے کو دودھ نہ پلانے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک  ماں کا کسی متعدی بیماری میں مبتلا  ہونا ہے،اس صورت میں بچےکو بیماری لاحق ہو جانے کے خطرے کی بناء پر بعض مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں۔ایک وجہ ماں کودودھ کا نہ آنا یا اس کا بچے کی طبیعت کے موافق نہ ہونا بھی ہے۔اس کے علاوہ ماؤں کووقت کا نہ ملنا بھی ایک وجہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ کہ چھاتی سے دودھ پلانا ایک دن میں اوسطا چار گھنٹے لیتا ہےجس کے باعث مصروف مائیں اس عمل کو ترک کر رہی ہیں جس کے باعث بچہ ماں کے ساتھ لپٹ کر قربت، اپنائیت،  پیار،  جسمانی حرارت اور خوراک حاصل کرنے سے محروم ہوجاتا ہے۔جو مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان کے دل میں بچے سے نسبتاً زیادہ محبت ہوا کرتی ہے، اسی طرح وہ بچہ بھی اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتا ہے،یہ بات بوتل یا کسی اور طریقہ سے حاصل شدہ دودھ میں نہیں ہو سکتی۔اگر کسی وجہ سے ماں دودھ نہیں پلاتی تو اسلام نے" اجارۃ الظئر "کے تفصیلی احکامات دیئے ہیں کہ کوئی سمجھدار عورت بچہ کو دودھ پلانے کی لیے اجارہ پر رکھی جائے جس کی اجرت بچے کے والد کے ذمہ ہوگی۔(17)

بچے پر رضاعت کی وجہ سے جاری ہونے والالے اثرات:

رضاعت (دودھ پلانے سے)سے نکاح کی حرمت اور اس کے توابع یعنی بچہ اور مرضعہ (Suckling Mother) اور ان کی اولاد وغیرہ کے درمیان نکاح کا عدم جواز ، رشتہ داری کا قائم ہوجانا،ان کو دیکھنے، باتیں کرنے اور سفر کی اجازت ثابت ہوجاتی ہےمگر اس کے علاوہ دوسرے عمومی احکام جیسے میراث کا جاری ہونا،نفقہ کا لزوم، شہادت کا رد ہونا، عاقلہ کا ثبوت اور قصاص کا سقوط جیسے احکام ثابت نہیں ہونگے۔

آج کل مِلک   بینک (Milk bank)مختلف عورتوں سےدودھ خرید کر دوسرے خریداروں کو یہ دودھ بیچتی ہیں ، خریدار بچوں کو چمچ ، بوتل وغیرہ سے دودھ پلاتے ہیں ،اس میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رضاعت کےثبوت کے لیے پستان سے دودھ پینا ضروری ہے یاچمچ ،گلاس وغیرہ سے بھی دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجائے گی ؟اس کا جواب یہ ہےکہ رضاعت کے ثبوت کے لیے پیٹ میں دودھ کا جانا ضروری ہے چاہے کسی بھی طرح ہو۔ ائمہ اربعہ کے ہاں بچے کے پیٹ میں دودھ پہنچ جانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ،چاہے پستان کے ذریعے سے ہو یابوتل، چمچ وغیرہ سے ہو،استدلال سنن بىہقى کى ىہ رواىت ہے:

"لارضاع الّا ما أنشز العظم و أنبت اللحم"(18)

" اس رضاعت کا اعتبار ہے جس سے گوشت اور ہڈیاں بنیں۔"

ان طریقوں سے دودھ پلانے میں بھی بچے کی نشوونما ہوتی ہے ، اس لیے ان سےبھی رضاعت ثابت ہوگی ۔ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لئے صرف حلق کے راستہ سے  دودھ پینا ضروری نہیں بلکہ ناک کے ذریعہ پیٹ میں دودھ پہنچنے سےبھی حرمت ثابت ہوجائے گی کیونکہ دودھ پیٹ میں پہنچنے کی اہمیت ہے، طریقہ استعمال کی نہیں بشرطیکہ مدتِ رضاعت کے اندر پہنچےالبتہ اگر پیٹ کے زخم کے ذریعے بچے کے پیٹ میں دودھ داخل ہوا تو اس سے رضاعت ثابت نہ ہوگی، ایسے ہی اگر بچے کو پستان منہ میں دیا گیا مگر بچے نے دودھ نہیں پیا   تو اس صورت میں بھی رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔(19)

مِلک  بینکس کے قیام کےمفاسد:

سب سے پہلا بڑا ضرر یہ ہوتا ہے کہ ملک بینک قائم کرنے والے مختلف علاقوں اور نسلوں کی عورتوں کا دودھ حاصل کرکے جمع کرکے اس کی خرید و فروخت کرتے ہیں  ،ان عورتوں کا نام  اور پتہ بھی معلوم نہیں ہوتا ، بچہ ایک ہی وقت میں کئی کئی عورتوں کا دودھ پیتا ہے،مسلسل دو سال تک ایسا دودھ پینے  سے اس عرصہ کے دوران یہ سینکڑوں عورتوں کا دودھ پی چکا ہوتا ہے،جس سے رضاعت کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے، نسبی رشتہ داروں کی طرح رضاعی رشتہ داروں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے، قرآن مجید نے محرم عورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد  فرمایا:

 

" وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ " (20)   " اور جن ماؤں نے تم کو دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں "(21)

معجم الکبىر للطبرانى کى اىک رواىت ہے:

"يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب"(22)   یعنی جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔

حرمت رضاعت کی وجہ  سے دودھ پلانے والی تمام عورتیں اس بچے کی مائیں اور عورتوں کے بیٹے ، بیٹیاں اس بچے کے بہن، بھائی بن جاتے ہیں اور اس بچے کی اولاد ان عورتوں کے پوتے، پوتیاں،نواسے اور نواسیاں بن جاتی ہیں ،ایسے ہی چچا، ماموں، خالہ اور پھوپی وغیرہ کے سارے رشتے قائم ہوجاتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں بچہ اگر بڑےہونے کے بعد ان عورتوں سے جن کا دودھ پیا ہے یا ان کی اولاد یا ان  عورتوں کے اصول یا بہن بھائیوں وغیرہ سے نکاح کرے گا تو یہ ایک بہت بڑے جرم کا مرتکب اورحدوداللہ کوپھلاندنے  والا  ہوگا ۔

بازاری عورتوں کا دودھ پینے سےبچے پر ان  کا اخلاقی اثر:

فقہاء کرام نے فاجرہ اور مشرکہ عورت کا دودھ پلانے کو مکروہ فرمایاہے، اس لیے کہ بچےپر بھی ان   کےفسق و فجور اور شرک کے اثرات مرتب ہونگے اور ایسی عورتوں کا دودھ پلانے میں بچہ کوعار لاحق ہوگی، بسا اوقات ان کی محبت کی وجہ سے بچہ  اس گناہ اور شرک کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔مرضعہ کے اثرات بچے کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے بچے کو بے وقوف عورت کا دودھ پلانے سے منع فرمایا ہے،سنن البیھقی کی روایت ہے:

" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تسترضع الحمقاء فإن اللبن يشبه "(23)

ترجمہ :آپ ﷺ  نے بے وقوف عورت کو  دودھ پلانے پر مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے  بے شک دودھ (عورت کے) مشابہ ہوتا ہے۔

ایسے ہی غیرمسلمہ،فاسقہ اور زانیہ کا دودھ پلانا بھی منع ہے چنانچہ علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمۃ اللہ علیہ نے  اپنی مایہ ناز کتاب "الشرح الكبير" میں حضرت عمر بن خطاب رضى اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ یہ ارشاد نقل فرمایا ہے:

"قال عمر بن الخطاب وعمر بن عبد العزيز رضي الله عنهما:

اللبن يشتبه فلا تستق من يهوديه ولا نصرانية ولا زانية"(24)

ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہما نے ارشاد فرمایا کہ "دودھ (آدمی کے) مشابہ ہوتا ہے،اس لیے آپ یہودیہ، نصرانیہ اور زانیہ سے (بچے کو)دودھ نہ پلائیں۔

صاحب بحر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں بے وقوف اور بازاری عورت کو دودھ پلانے کے لیے رکھنا بچے کو ہلاک کرنے کے مترادف ہےکیونکہ یہ نہ بچے کی حفاظت کرے گی اور نہ  وہ خود نقصان دہ اشیاء سے بچے گی، جس  سے اس کا دودھ فاسد ہونے کی وجہ سے بچے کو نقصان ہوگا۔(25)

نکاح کا درست نہ ہونا:

جب بچہ دویا زیادہ عورتوں کا مختلط دودھ پیتا ہےتو دونوں سے رضاعت کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے،یہی قول احناف کے ہاں مفتیٰ بہ ہے یعنی اس میں کثرت کو نہیں دیکھا جائے گا۔(26) ہاں البتہ اگر عورت کا دودھ پانی سے مل جائے یا کسی دوائی میں ڈالا جائے یا بکری یادوسرے جانور کے دودھ سے ملا دیا جائے تو ان صورتوں میں اکثریت کا اعتبار ہوگا،اگر دودھ اکثر ہوگا تو رضاعت ثابت ہوگی وگرنہ نہیں۔ایسے ہی اگر اس دودھ سے پنیر ،مکھن یا کھاناوغیرہ بنا دیا گیا  اور بچے نے اس کو مدت  کے اندراستعمال کردیا تو اس سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ لبن کا نام اس سے زائل ہوگیا۔(27) مِلک  بینک کا دودھ پینے کی صورت میں بچے اور مرضعہ کے درمیان رضاعت کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے اس لئے یہ بچہ عورت کے اصول اور فروع میں سے کسی سے نکاح نہیں کرسکتا مگر رضاعت کے ثبو ت کے لیے شرعا دو مردوں یا ایک مرد اور دو  عورتوں کی شہادت ضروری ہے،صرف ایک عورت یا ایک مرد اور ایک عورت کی شہادت سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔(28) رد المحتار میں ہے:

"والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا اهـ" (29)

ترجمہ:" عورتوں پر یہ بات واجب ہے کہ بغیر ضرورت کے کسی بچے کو دودھ نہ پلائیں،جن بچوں کو وہ دودھ پلائیں ان کا نام،نسب وغیرہ اپنے پاس لکھ کر محفوظ رکھیں اور اس رضاعت کو معاشرہ میں مشہور کردیں (تاکہ کوئی ناجائز نکاح منعقد نہ ہو۔)

 فقہائے کرام نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ حالتِ اضطرار کے علاوہ عورت کو خاوند کی اجازت کے بغیر کسی بچے کو دودھ پلانا مکروہ ہے۔ اگر کسی بچے یا بچی کو ایک علاقے کے کئی خواتین نے دودھ پلایا اور یہ بچہ یا بچی اس علاقے میں شادی کرنا چاہیں اور رضاعت پر کوئی دلیل اور شہادت موجود  ہو تو  رضیع اور مرضعہ کے اور ان کے اصول و فروع کے مابین نکاح کرنا درست نہیں اور اگر رضاعت پر کوئی دلیل اور شہادت موجود نہ ہو تو قیاساً تو یہ نکاح درست نہیں  ہونا چاہئےمگر استحساناً یہ نکاح درست ہے،چنانچہ علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"ولو أرضعها أكثر أهل قرية ثم لم يدر من أرضعها فأراد أحدهم  تزوجها إن لم تظهر علامة ولم يشهد بذلك جاز" (30)

ترجمہ: اگر کسی کو بستی کی بہت سی عورتوں نے دودھ پلایا اور پھر معلوم نہ ہوتا ہو کہ کس کس نے اس کو دودھ پلایا ہے، پھر کسی بچے نے بستی کی کسی عورت سے شادی کاارادہ کیا اگر رضاعت کی کوئی علامت اور شاہد بھی نہ ہو تو اس وقت یہ نکاح جائز ہوگا۔

متعدی بیماریوں کا پیدا ہونا:

بعض اوقات  عورتیں مختلف بیماریوں میں گھِری ہوتی ہیں، دودھ کے ذریعہ سے یہ بیماریاں اس معصوم بچے کے جسم میں منتقل ہوتی ہیں،جدید سائنس ایسی بہت ساری بیماریوں اور جراثیم کے علاج سے عاجز آگئی ہے،جیسے ایڈز(Aids) وغیرہ۔مستقبل میں جیسے جیسے ماں کے  دودھ کی اہمیت اورحصول کا طریقہ کار واضح ہوتا جائے گا ایسے ہی اس کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔امریکا اور یورپ کے ممالک میں جہاں آنکھ ،گردہ، خون اورجگر وغیرہ اعضاء کا انتقال (Transplantation)  حکومتی نگرانی کے تحت ہوتا ہےمگر وہاں انسانی دودھ کو محض ایک غذا تسلیم کیا گیا ہے، جس کی خرید وفروخت گلی  کوچوں میں ہونے کے باعثHIV ، ایڈز اور ہیپاٹائیٹس اور دوسری بیماریوں کے خطرات  کئی گنا زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

جانوروں کے دودھ کی طہارت اورخرید و فروخت:

جن  جانوروں کا گوشت کھایا جا تا ہے ان کا دودھ ان کی زندگی  میں طاہر ہے،البتہ ان  کے موت  کے بعد مالکیہ،شافعیہ، حنابلہ کے ظاہر مذہب اور امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کے ہاں نجس ہے اور امام ابو حنیفہ اور حنابلہ کی ایک روایت کے مطابق طاہر ہے، باقی جن جانوروں کا گوشت کھانے کی حرمت پر اتفاق ہے ان کا دودھ نجاست  کی  وجہ سے استعمال کرنا بھی حرام  ہے۔(31)

احناف،شوافع،حنابلہ کے ہاں تھنوںمیں دودھ کی بیع جہالت اور غرر کی وجہ سے جائز نہیں کہ معلوم نہیں کہ تھن میں دودھ ہے یا ہوا وغیرہ، دودھ ہونے کی صورت میں  کتنا دودھ موجود ہے ؟ دوسری بات کہ  دودھ ایک ہی وقت تھن میں جمع نہیں ہوتا بلکہ تھوڑا تھوڑا ہو کر آتا رہتا  ہےجس کی وجہ سے مبیع اور غیر مبیع مختلط ہوجاتی ہے جو  بیع کے منافی ہے۔مالکیہ کے ہاں اگر کچھ متعین جانوروں کا ایک، دو ماہ  کے لیے دودھ بیچا جائے  تو یہ بیع ان کے ہاں جائز ہے۔(32)

انسانی دودھ کی خرید و فروخت:

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی  دودھ کا کاروبار درست ہے یا نہیں؟ اس میں حضرات فقہائے کرام کی دو آراء ہیں،حضرات احناف عدم ِجواز جبکہ ائمہ ثلاثہ جواز کے قائل ہیں۔

مالکیہ،شافعیہ اور حنابلہ کی اصح روایت کے مطابق اگرانسان  کا دودھ الگ برتن میں بیچا جائے تو اس کی بیع درست ہے،دلیل میں یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ پاک،نفع مند چیز ہے، جیسے اس دودھ کا پیناجائز ہے ایسےہی اس کی خرید وفروخت دوسرے جانورں کے دودھ پر قیاس کرتے ہوئے جائز ہے،احناف کے مذہب اور حنابلہ کی ایک روایت کے مطابق انسان کے دودھ کی بیع عدم ِمالیت اور  حضرتِ انسان کا جزء ہونےکی وجہ سے ناجائز ہے۔یہ حضرات انسانی دودھ میں بیع کے جواز کی ابتدائی شرط  مالیت کے ہونے سے انکار کرتے ہیں،دلیل اجماع اور قیاس ہے،اجماع یہ کہ "ولد مغرور"(آزاد عورت یا غیرکی باندی کسی آدمی کو مطلق باندی کہہ کر بیچی گئی جس سے اس مشتری کو اولاد ہوئی) میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ قیمت اور عقر (باندی کی مہر) کا فیصلہ فرمایا،یہ فیصلہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مشاورت اور ان کی موجودگی میں ہوا، ان حضرات نے دودھ کی قیمت کا فیصلہ نہیں فرمایا،اگر یہ مال ہوتا تو ضرور اس کو بھی فیصلہ میں شامل فرماتے۔قیاس بھی اس بیع کے عدم جواز کا متقاضی ہے وہ اس طرح کہ یہ دودھ  ہر کسی کے لیے استعمال کرنا درست نہیں، صرف بچوں کے لیے بطور غذا جائز ہےاور جس چیز سے عمومی حالات میں انتفاع لینا حرام ہو وہ مال نہیں ہوتا۔(33)

"Milk banks"  کے قیام سے دودھ خریدنے میں بلکہ باقاعدہ اس کو  کاروبار بنانے میں اس   کی حوصلہ افزائی ہے  جو شرعاً ممنوع ہے، لیکن ماں کے علاوہ بچے کو کسی دوسری عورت کا دودھ پلانا ضروری ہو اور وہ بلا قیمت نہ مل سکتا ہو تواس کا خریدنا ضرورتاً جائز ہو گا، مگر بائع کے لیے اس کی قیمت کا استعمال ہرگز جائز نہ ہوگا، اس کی نظیر خنزیر کے بال کا بغرض’’خرز‘‘ یعنی سینے کے لیے استعمال ہے کہ زمانِ ماضی میں موزے وغیرہ کی سلائی میں یہ استعمال ہوتا تھا اور اس کا کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا، ایسی صورت میں علمائے کرام کا فتویٰ تھا کہ اگر یہ بال بغیر قیمت کے نہ ملے تو اسے خریدنا تو جائز ہوگا مگر بیچنے والے کے لیے اس کی قیمت کا استعمال حلال نہیں۔ (34) دوسری بات یہ ہے کہ یہ کاروبار انسانی عزت اور شرافت کے خلاف ہے، اسلام نے انسان  کو عزت و کرامت  اور بلند درجہ عطا فرمایا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"ولقد كرمنا بني آدم" (35)  ترجمہ: اور ہم نے  عزت دی ہے آدم کی اولاد کو  (36)

 انسان معزز ومکرم ہےاور یہ بات جائز نہیں کہ اس کے اجزاء عام اشیاء کی طرح  بازار میں بیچے اورخریدے جائیں۔ انسان کا دودھ بیچنے میں اس کی ذلت ہےکہ بکریوں اور بھینسوں کی طرح ان سے دودھ دوہا جائے ،صبح شام دودھ اترنے کا انتظار   کیا جائے۔

خلاصہ:(Conclusion):

اس کاروبار میں بہت سارے  مفاسد ہیں جن کو شمار کرنا مشکل ہے ، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کاروبار سے بچا جائے اور اس کی برائیوں کو معاشرے تک پہنچایا جائے تا کہ  ہمارے علاقے اور ملک میں  اس کاروبار  کے شروع ہونے سے پہلے ہی لوگ اس کی خرابیوں سے واقف ہو چکے ہوں۔  نیز بچے کو ایسا دودھ پلانے میں بہت خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  اس  کامضر ہونا کسی بھی ادنیٰ شعور رکھنے والے پر مخفی نہیں،  ہم نے اجمالاً کچھ مضر اثرات اور نقصانات  ذکر کئے  ہیں وگرنہ حقیقت میں خرابیاں اس سے زائد ہیں ۔

 

 

 

حوالہ جات

  1. الغزالي، أبو حامد محمد بن محمد الطوسي (المتوفى:۵۰۵هـ)، المستصفى فی علم الاصول، تحقيق: محمد عبد السلام عبد الشافي، بیروت، دار الكتب العلمية، الطبعة، الأولى، ۱۴۱۳ھ، ص۱۷۴
  2. الفرقان:۶۸
  3.  شیخ الہند، مولانا محمود الحسن رحمة الله عليہ، المتوفی۱۳۳۹ھ ، ترجمہ شیخ الہند،  الفرقان : ۶۸
  4. البدوي، يوسف احمد محمد، مقاصد الشريعة عند ابن تيميه، اردن،دار النفائس ،۲۰۰۰م،  ص۴۷۳
  5. الجوهري، أبو نصر إسماعيل بن حماد الفارابي (المتوفى:۳۹۳هـ)، الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية، تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار، بيروت، دار العلم للملايين، الطبعة الرابعة ۱۴۰۷ ه‍،ج۶،ص۲۱۹۱
  6. النحل:۶۶
  7. شیخ الہند، ترجمہ شیخ الہند،محولہ، النحل: ۶۶
  8. الألوسي، شهاب الدين محمود بن عبد الله الحسيني (المتوفى: ۱۲۷۰هـ)، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، المحقق: علي عبد الباري عطية، بيروت، دار الكتب العلمية، الطبعة الأولى،۱۴۱۵هـ،ج۷،ص ۳۳۵
  9. World Health Organization, WHO/NMH/NHD/09.01, WHO/ FCH/ CAH/09.0,  Acceptable medical reasons for use of Breast- milk substitutes
  10. Evidence on the long-term effects of breastfeeding: systematic reviews and meta-analyses. Geneva, World Health Organization, 2007.
  11. León-Cava N et al. quantifying the benefits of breastfeeding: a summary of the evidence. Washington, DC, Pan American Health Organization, 2002 (http://www.paho.org/English /AD/FCH/ BOB-Main.htm, accessed 26 June 2008
  12. Resolution WHA39.28. Infant and Young Child Feeding. In: Thirty-ninth World Health Assembly, Geneva, 5–16 May 1986. Volume 1. Resolutions and records. Final. Geneva, World Health Organization, 1986 (WHA39/1986/ REC/1), Annex 6:122–135.
  13. http://www.onlythebreast.com/buy-sell-donate-breast-milk/buyer-tips/
  14. البقرۃ:233
  15. ابن عابدين ،محمد امین بن  عمر بن عبد العزیز (المتوفی۱۲۵۲ھ)، رد المحتار على الدر المختار، باب الرضاع، طبع بدون طبعة وبدون تاريخ، کراتشی، ایج ایم سعید، ج۳، ص۲۱۱
  16. لاجپوری ،مفتی سید عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ،فتاوی رحیمیہ، کراچی، دارالاشاعت اردو بازار،طبع اول، ۲۰۰۹ء، ج۸، ص ۲۴۹
  17. السرخسي، شمس الدين أبو بكر محمد بن أبي سهل، المبسوط للسرخسي ، بيروت،  دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع،  الطبعة الأولى، ۱۴۲۱ھ، ج۱۵، ص ۲۱۶
  18. البيهقي، أبو بكر أحمد بن الحسين، (المتوفى:۴۵۸هـ)، السنن الصغير للبيهقي، المحقق: عبد المعطي أمين قلعجي، كراتشي جامعة الدراسات الإسلامية، الطبعة الأولى،۱۴۱۰هـ، باب في رضاعة الكبير، ج۳،  ص۱۷۷
  19. شيخي زاده عبد الرحمن بن محمد بن سليمان (المتوفى:۱۰۷۸هـ)،مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، بیروت، دار إحياء التراث العربي،طبع بدون طبعة وبدون تاريخ، ج۱،ص ۳۷۵
  20. النساء:۲۳
  21. شیخ الہند ، ترجمہ شیخ الہند،محولہ، سورہ، النساء:۲۳
  22. الطبراني، أبو القاسم سليمان بن أحمد بن أيوب ، المعجم الكبير ، الموصل، مكتبة العلوم والحكم ، الطبعة الثانية، ۱۴۰۴ ھ ، ج۳، ص۱۳۹
  23. البيهقي ، أبو بكر أحمد بن الحسين (المتوفى:۴۵۸هـ)، سنن البيهقي الكبرى ، باب ما ورد في اللبن يشبه عليه، المحقق: محمد عبد القادر عطا ، بيروت،دار الكتب العلمية، الطبعة الثالثة ۱۴۲۴ ھ، ج۷ ، ص۷۶۵
  24. ابن قدامة، أبو محمد موفق الدين عبد الله بن أحمد بن محمد  المقدسي، (المتوفى:۶۲۰هـ) المغني لابن قدامة، القاھرہ، مكتبة القاهرة، طبع بدون طبعة،۱۳۸۸ھ، ج۸، ص۱۹۴
  25. ابن نجيم، زين الدين بن ابراهيم الحنفي (المتوفى ۹۷۰ ه‍)، البحر الرائق،کتاب الرضاع، کراتشی،مکتبه رشیديه، طبع بدون طبعة و سنة ،ج۳، ص۳۸۷
  26. ابن نجيم، ،البحر الرائق،محوله، ج۳، ص۲۴۵
  27. لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي، الفتاوى الهندية، بیروت،دارالفكر، الطبعة الثانية،۱۳۱۰ ه، ج۱، ص۳۴۴
  28. گنگوہی،  محمود الحسن ،مفتی ،فتاوی محمودیہ، کراچی،دارالافتاء جامعہ فاروقیہ، سن و طبع ند،ج۱۳، ص۶۰۷
  29. ابن عابدين، محمد امین بن  عمر بن عبد العزیز (المتوفی ۱۲۵۲ھ)، رد المختار على الدر المختار ، بيروت، دار الفكر للطباعة والنشر، الطبعة الثانية،۱۴۱۲ھ، ج۳، ص۲۱۲
  30. حصکفی، علاء الدین محمد بن علی بن محمد (المتوفی۱۰۸۸هـ)،الدر المختار، بيروت، دارالکتب العلميه ،الطبعة الأولى،۱۴۲۳هـ، ص۲۰۲
  31. لجنه کبار العلماء، الموسوعة الفقهيه، الکویت، وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلاميه،۲۰۰۷م، ج۳۵، ص ۱۹۷
  32. الزحیلی،د۔وهبه ،الفقه الاسلامی و ادلته،دمشق، دار الفكر ، الطَّبعة الرَّابعة ۱۴۳۲هـ، ج۴، ص۱۵۳
  33. الموسوعة الفقهيه، ، محوله، ج۳۵ ،ص۱۹۹
  34. شيخی زادہ، عبد الرحمن بن محمد بن سليمان ،(المتوفیٰ۱۰۷۸)،مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، بيروت، دار الكتب العلمية، الطبعة الثانيه ۱۴۱۹هـ، ج۳، ص۸۵
  35. بنی اسراءیل:۷۰
  36. شیخ الہند ، مولانا محمود الحسن رحمۃ اللہ علیہ، المتوفی۱۳۳۹هـ،  ترجمہ شیخ الہند، بنی اسرائیل:۷۰